غزل

بے سہارا انجمن میں تیرا آنا یاد ہے

حبیب بدر ندوی

بے سہارا انجمن میں تیرا آنایاد ہے

روتے روتے ترستے تیرا آنا یاد ہے

پھر رہے تھے ذلیل ہو کر در بدر

جان سے  عزیز بنانا یاد ہے

زخمی پرندہ سا سسک رہے تھے درد سے

دست کرم تم پہ رکھنا مجھے یاد ہے

قر بتیں حد سے بڑھیں تو موسم بن گئے

کیسے تم  بدل گئے وہ بہانہ یاد ہے

  غیر تھے غیرہو غیر رہوگے صدا

تیرے دل کا وہ فسانہ یاد ہے

زخمی دل کر گئے  الزام ہوس دیکر

کتنے پاکیزہ تھے ہم وہ زمانہ یاد ہے

مزید دکھائیں

حبیب بدر ندوی

ایم اے شعبہ عربی جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی.

متعلقہ

Close