غزل

بے پردہ سرو تم پہ ردا کیوں نہیں آتی

اس دور جہالت کو قضا کیوں نہیں آتی

احمد نثارؔ

اس دور جہالت کو قضا کیوں نہیں آتی

ہر سمت محبت کی فضا کیوں نہیں آتی

٭٭٭

ٹھوکر سے سنبھلتے ہیں سبھی، تو نہیں سنبھلا

آخر تجھے جینے کی ادا کیوں نہیں آتی

٭٭٭

کیوں بوجھ سمجھتے ہیں سروں پر یہ دپٹے

بے پردہ سرو تم پہ ردا کیوں نہیں آتی

٭٭٭

کیا ہوگیا تقویٰ کی نظر تیری نظر کو

آوارہ نگاہوں کو حیا کیوں نہیں آتی

٭٭٭

تا عمر جہنم کے خزینے کو کما کر

روتا ہے کہ جنت کی ہوا کیوں نہیں آتی

٭٭٭

کیا بیچ دیا تونے ضمیروں کو زمانے؟

تجھ کو تِرے اندر کی صدا کیوں نہیں آتی

٭٭٭

دعویٰ ہے تمہیں اپنی وفائوں پہ ولیکن

ہر سمت سے پھر بوئے وفا کیوں نہیں آتی

٭٭٭

بوتے ہی نہیں بیج وفا اس پہ ستم یہ

کرتے ہیں گلہ شاخ وفا کیوں نہیں آتی

٭٭٭

اخلاص و قرینے سے نثارؔ آپ پکاریں

پھر دیکھئے رحمت کی گھٹا کیوں نہیں آتی

مزید دکھائیں

احمد نثار

نام سید نثار احمد، قلمی نام احمد نثار۔ جائے پیدائش شہر مدنپلی ضلع چتور آندھرا پردیش۔ درس و تدریس سے رضاکار موظف۔ اردو ادب، شاعری، تحقیق، ٹرائننگ اہم دلچسپیاں۔ انگریزی، ہندی تیلگو اور اردو زبانوں میں مہارت۔ کمیونکیشن اسکلز ایکسپرٹ۔ شعری مجموعہ روحِ کائنات، کہکشانِ عقیدت (نعتیہ مجموعہ) سکوتِ شام (زیرِ ترتیب)، تصنیف مواصلاتی مہارات برائے بی یو یم یس طلباء (Communication Skills for BUMS Students) ۔ ویکی پیڈین و ویکی میڈین۔ فی الحال رہائش پونے/ممبئی، مہاراشٹر۔

متعلقہ

Close