غزل

تجھ کو کسی کے ساتھ جب دیکھا کروں ہوں میں

خود بن کے آگ اپنے ہی اندر  جلوں  ہوں  میں

شاد مرادآبادی

(مرادآباد یوپی)

تجھ کو کسی کے ساتھ جب دیکھا کروں ہوں میں

خود بن کے آگ اپنے ہی اندر  جلوں  ہوں  میں

ہاں نام تیرا ریت پہ اب بھی لکھوں ہوں میں

پھر اس کو دیکھ دیکھ کے رویا کروں ہوں میں

سوچا تھا تونے غم سے ترے ٹوٹ جاؤں گا

تو غور سے تو دیکھ ابھی جوں کا توں ہوں میں

بس اس لئے ہی سامنے آتا ہوں بار بار

تو نے ہی تو کہا تھا کہ اچھا لگوں ہوں میں

گم سم رہوں اداس رہوں خود کو بھول جاؤں

یہ دیکھ تیرے عشق میں کیا کیا کروں ہوں میں

اک تیری بے وفائی نے پہنچا دیا کہاں

محفل میں آج دیکھ مجھے سرنگوں ہوں میں

رہتا تھا شاد ایک زمانہ تھا دوستو

اب اپنا حال دیکھ کے رو رو پڑوں ہوں میں

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close