غزل

ترکِ تعلقات نہیں چاہتا تھا میں

افتخار راغبؔ

ترکِ تعلقات نہیں چاہتا تھا میں

غم سے تِرے نجات نہیں چاہتا تھا میں

کب چاہتا تھا تیری عنایت کی بارشیں

شادابیِ حیات نہیں چاہتا تھا میں

مجھ سے تو اے بہشت نظر یوں نظر نہ پھیر

کیا تجھ کو تا حیات نہیں چاہتا تھا میں

میں چاہتا تھا تم سے نہ جیتوں کبھی مگر

کھا جاؤں خود سے مات نہیں چاہتا تھا میں

گزری ہے دل پہ کیسی قیامت میں کیا کہوں

نفرت کی کائنات نہیں چاہتا تھا میں

کیا حال اب ہے تیرے تعاقب میں اے حیات

تُو یوں ہی آئے ہات نہیں چاہتا تھا میں

میں چاہتا تھا راہ میں کچھ مشکلیں مگر

ہر ہر قدم پہ گھات نہیں چاہتا تھا میں

راغبؔ وہ میری فکر میں خود کو بھی بھول جائیں

ایسی تو کوئی بات نہیں چاہتا تھا میں

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close