غزل

تری گلی سے گزرنا مجھے پسند نہیں

جو سب کریں وہی کرنا مجھے پسند نہیں

احمد کمال حشمی

تری گلی سے گزرنا مجھے پسند نہیں

جو سب کریں وہی کرنا مجھے پسند نہیں

اگر میں ٹوٹا تو ٹوٹوں گا سنگ کی صورت

شکستہ ہوکے بکھرنا مجھے پسند نہیں

کسی کی یاد سے پیچھا چھڑا رہا ہوں میں

وہ کررہا ہوں جو کرنا مجھے پسند نہیں

میں دیکھ لیتا ہوں خود کو تمہاری آنکھوں میں

اب آئنے میں سنورنا مجھے پسند نہیں

یہ بات کیسے بتاؤں تجھے طبیب مرے

جگر کے زخم کا بھرنا مجھے پسند نہیں

تم اپنے دل میں بسانے کی بھول مت کرنا

کسی کے گھر میں ٹھہرنا مجھے پسند نہیں

وہ موت ہو کہ عدو ہو کہ زندگی میری

ڈرانے والے سے ڈرنا مجھے پسند نہیں

کہانی یاد ھے خرگوش اور کچھوے کی

میں چل پڑا تو ٹھہرنا مجھے پسند نہیں

مزید دکھائیں

احمد کمال حشمی

احمد کمال حشمی مغربی بنگال کے مستند و معتبر شاعر ہیں۔ آپ کے کئی شعری مجموعے شائع ہوکر اربابِ نظر سے پذیرائی حاصل کرچکے ہیں۔ ’سفر مقدر ہے‘، ’ردعمل‘، ’آدھی غزلیں‘، ’چاند ستارے جگنو پھول‘ ان کے شعری مجموعوں کے نام ہیں۔ آپ کو مغربی بنگال اور بہار اردو اکادمیوں سمیت مختلف ادبی اداروں سے ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔ احمد کمال حشمی ادب کی بے لوث خدمت انجام دے رہے ہیں، مختلف ادبی اداروں میں فعال کردار ادا کررہے ہیں اس کے علاوہ نئے ادیبوں اور شاعروں کو ادبی حلقوں میں متعارف کروانے اور ان کی تربیت میں پیش پیش رہتے ہیں۔ موصوف حکومت مغربی بنگال کے محکمہ اراضی میں افسر ہیں اور ان دنوں کولکاتا میں مقیم ہیں۔

متعلقہ

Close