غزل

ترے دیار میں رہتے ہیں کچھ کمال کے لوگ 

ذرا ترے تو ذرا ہیں مرے خیال کے لوگ 

یاسرعرفات

(ساکن دُدھوت، ڈوڈہ)

ترے دیار میں رہتے ہیں کچھ کمال کے لوگ

ذرا ترے تو ذرا ہیں مرے خیال کے لوگ

نہ ان کو کل کی ہے پرواہ نہ فکر ہی ہے کوئی

شکار ایسے ہی ہوتے ہیں پھر زوال کے لوگ

درندہ خو ہیں، ذرا ہوشیار ہو کے چلو تم

دل و جگر ہی نہ کھا جائیں گے نکال کے لوگ

ذرا سے دام میں عزت بھی بیچ دیتے ہیں یہ

غلام کب کے ہوئے ہیں یہاں ریال کے لوگ

کسی کا دل تو کسی کا جگر یہ بھون بھی دیں

امیر شہر نے رکھے ہیں پال پال کے لوگ

دلوں میں کینہ زبانوں پہ پیار کا ہے بیاں

بڑے ہی سانپ ہیں اندر سے ایسی چال کے لوگ

قلم کی نوک سے یاسر نہ نام ان کا تو لکھ

پسند ہیں نہ خدا کو بھی ایسے حال کے لوگ

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close