غزل

ترے نقش ِ پا کی تلاش میں یہ بجا ہے آبلہ پا ہوئے

ادریس آزاد

ترے نقش ِ پا کی تلاش میں یہ بجا ہے آبلہ پا ہوئے
ترے جبر سے تو نکل گئے تری قید سے تو رہا ہوئے

جو مرے عصا کو نگل گیا مرے ساحرا ! ترا زہر تھا
مرے اعتقاد کے ضعف سے،ترے سانپ سارے عصا ہوئے

ترے شاہکار بشر رہے، تُو خدا ہوا بھی تو کیا ہوا؟
میں تو ایک سنگ تراش تھا مرےسنگریزے خدا ہوئے

وہ ہمارے ہجر کے فیصلے ، جو ورائے عقل و شعور تھے
مجھے اب بھی اس پہ یقین ہے جو غلط ہوئے تھے بجا ہوئے

خسفِ وجودِ شکستہ دل جو ہوا تھاکشورِ جان میں
جو کھنڈر کھڑا تھا بکھر گیا جو ورق پڑے تھے ہوا ہوئے

یہ کہاں کی رسم ہے دوستا! نہ کرم رہے نہ بھرم رہے
یہ بجا کہ ہم سے خطا ہوئی، ترے رنگ و بو پہ فدا ہوئے

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Back to top button
Close