غزل

تشنگی لوگ سر شام لیے پھرتے ہیں

پیاس دھڑکن کی سر عام لیے پھرتے ہیں

امیر حمزہ سلفی

تشنگی لوگ سر شام لیے پھرتے ہیں

پیاس دھڑکن کی سر عام لیے پھرتے ہیں

دین کی ان کو خبر ہے نہ شریعت کا پتا

 بے سبب ساتھ میں اصنام لیے پھرتے ہیں

 بنت حوا کو کھلونا ہی سمجھتے ہیں یہ

دل میں بد نیتی کے جام لیے پھرتے ہیں

اپنی نظروں میں ہی گر جائیں گے باری باری

زر پرستی کے جو یہ جام لیے پھرتے ہیں

کامرانی انہیں ہر گام ملے گی حمزہ

جو طلب دل میں صبح و شام لیے پھرتے ہیں

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close