غزل

تضمینی غزل

عبدالکریم شاد

ایسا لگتا ہے بکھرنا ہے مقدر میرا

"لوٹ آتا ہے مری سمت ہی پتھر میرا”

ایسی شدت سے مخالف ہے ہواؤں کا رخ

"لوٹ آتا ہے مری سمت ہی پتھر میرا”

اس کا پتھر تو چلا آتا ہے میری جانب

"لوٹ آتا ہے مری سمت ہی پتھر میرا”

توڑنے نکلا تھا میں شہر کے آئینوں کو

"لوٹ آتا ہے مری سمت ہی پتھر میرا”

ٹوٹ جاتا ہے مرا آئنہ اکثر اے شاد!

"لوٹ آتا ہے مری سمت ہی پتھر میرا”

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close