غزل

تیر اندھیرے میں چلایا چل گیا

مقصود عالم رفعتؔ

عشق کا لگتا یے جادو چل گیا

اس کے سانچے میں مرا دل ڈھل گیا

۔

کب تلک رہتا دلیلِ روشنی

شام آئی اور سورج ڈھل گیا

۔

بزم میں الٹا ہی تھا اس نے نقاب

وہ دیا جو بجھ چکا تھا جل گیا

۔

خود سے بیگانہ تھا میں اس بزم میں

اور جب اٹھ کر گیا، بیکل گیا

۔

ہے شکاری خود ہی اب حیرت زدہ

’’تیر اندھیرے میں چلایا چل گیا‘‘
۔

مہرباں کتنا ہے میرا چارہ ساز

زخم پر میرے نمک وہ مل گیا

۔

خانۂ دل ہے معطر اب تلک

عشق کی ایسی وہ خوشبو مل گیا

۔

ہے مری ماں کی دعاؤں کا اثر

غم مرے سر پر جو آیا ٹل گیا

۔

فن میں جو رفعت مجھے حاصل ہوئی

ناقدوں کو دوستو یہ کھل گیا

مزید دکھائیں

مقصود عالم رفعتؔ

مقصود عالم رفعت کا تعلق پنڈول، مدھوبنی، بہار سے ہے۔ آپ اردو سے پوسٹ گریجویٹ ہیں اور ایک سرکاری اسکول میں مدرس ہیں۔ آپ نے شاعری کا آغاز 2014 سے کیا تھا اور پہلا شعری مجموعہ ’کربلائے زیست‘ زیر طباعت ہے۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close