غزل

جا ذرا دیر کو جاں، اب غم ِ جاں دیکھنے دے!

زخم گہرا ہے، کراں تابہ کراں دیکھنے دے

ادریس آزاد

جاذرا دیر کو جاں! اب غم جاں دیکھنے دے!
زخم گہرا ہے، کراں تابہ کراں دیکھنے دے

اے مرے نام کے پربت پہ جمی برف پگھل
آبشاروں سے جو بنتے ہیں جہاں دیکھنے دے!

اُگ رہے ہیں مری آنکھوں میں تمنّاؤں کے باغ
سُرخ ہوتے ہوئے سورج کا سماں دیکھنے دے!

دھڑکنیں دونوں طرف ہیں تو دھماکہ ہوا جان
کس طرح ہوتی ہے دیوار، دُھواں دیکھنے دے!

سرگرانی بھی ہے، سودا بھی، دیوار بھی ہے
عشق سے پہلے ذرا نام و نشاں دیکھنے دے!

اے حویلی کی سہیلی کسی رُوزن سے مجھے
چار لمحوں کو سہی بزم ِ جہاں دیکھنے دے!

دھرم سے، فتووں سے، رسمات سے کیوں ڈرتاہے
تُو جو آزاد ہے تو شہر ِ بتاں دیکھنے دے!

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close