غزل

جاری ہے سانسوں میں سرگم اللہ خیر کرے

فوزیہ رباب

جاری ہے سانسوں میں سرگم اللہ خیر کرے

گیت کی لے ہے مدھم مدھم اللہ خیر کرے

زلف ہوئ ہے درہم برہم اللہ خیر کرے

وجد میں ہے پھر دل کا عالم اللہ خیر کرے

جانے کی تیاری ترے ہی حکم پہ ہم نے کی

اب ہیں تیری آنکھیں پرنم اللہ خیر کرے

اُس کے لب پر باتیں میری، باتوں میں شوخی

اِس پر اُس کا لہجہ مدھم اللہ خیر کرے

بس بھی کر اب ظالم  ہم پر کتنے کرے گا ظلم

اتنے بھی مضبوط نہیں ہم اللہ خیر کرے

وقت بھی ہے کچھ بدلا بدلا اور اک دوجے سے

باتیں بھی اب ہوتی ہیں کم، اللہ خیر کرے

حوا کی بیٹی کو تو ہے اپنی حد معلوم

حد میں کہاں ہے ابنِ آدم اللہ خیر کرے

 دکھ کا ذائقہ جو چکھا تھا اب تک بھول نہ پائے

پھر آیا ہے پیار کا موسم اللہ خیر کرے

جانے کیسا روگ لگا یہ درگت دیکھ رباب

 الجھی باتیں، لہجہ مبہم اللہ خیر کرے

مزید دکھائیں

فوزیہ ربابؔ

نسوانی جذبات و احساسات کی پُر تاثیر عکاسی کرنے والی اور شاعری و نثر نگاری میں یکساں درک رکھنے والی منفرد لب و لہجہ کی شہزادیِ سخن محترمہ فوزیہ ربابؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات کے دار الحکومت احمد آباد کے ایک معروف علمی و دینی گھرانے سے ہے. بچن ہی سے آپ کو شعر و ادب کے مطالعے کا شوق رہا ہے. آپ نے گجرات یونیورسی ٹی سے ایم اے اور بی ایڈ کی ڈگڑی حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن اینڈ جرنلجزم کی ڈگری بھی حاصل کی ہے. طالب علمی کے زمانے ہی سے شعر گوئی کی طرف راغب ہیں. شادی کے بعد 2010 سے گوا میں مقیم ہیں اور وہیں سے عالمی ادب میں اپنی منفرد اور معتبر شناخت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کر چکی ہیں. سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے مختلف ذرائع سے آپ کا کلام پوری اردو دنیا میں روز بروز مقبولیت حاصل کر رہا ہے. آپ متعدد ادبی تنظیموں اور رسالوں وغیرہ سے وابستہ ہیں. اتنی کم عمری ہی میں کئی ایوارڈ و اعزاز سے نوازی جا چکی ہیں نیز پاکستان میں بھی آپ کے اعزاز میں مشاعرہ منعقد ہوچکا ہے. ہندوستان کے متعدد معیاری عالمی و کل ہند مشاعروں میں با وقار و کامیاب شرکت کر چکی ہیں. آپ کی شاعری کا پہلا مجموعہ "آنکھوں کے اُس پار" اکتوبر 2017 میں عرشیہ پبلیکیشنز دہلی سے شائع ہو کر مقبولیت حاصل کر رہا ہے اور دوسرا مجموعہ زیرِ ترتیب ہے. آپ کی شاعری کی انتہائی دیدہ زیب اینڈرائڈ ایپ بھی تیار ہو چکی ہے جسے Play Store میں Foziya Rabab Poetry سے تلاش کر کے موبائیل میں انسٹال کر کے پڑھا جا سکتا ہے. آپ کی غزلیں جہاں احساسات و جذبات و دلکشی سے لبریز ہوتی ہیں وہیں آپ کی نظموں میں بلا کی روانی کے ساتھ زبان و بیان کی چاشنی اپنی الگ دل ربائی کی خوشبو لٹاتی ہے جن کو پڑھ کر قاری افکار و تخیل کی حسیں وادی میں گم سا ہو جاتا ہے.

متعلقہ

Close