غزل

جام عشق کا اگر آپ نے پیا نہیں

لذت حیات پھر آپ کو پتا نہیں 

جواد حیدر جواد

جام عشق کا اگر آپ نے پیا نہیں

لذت حیات پھر آپ کو پتا نہیں

عشق باکمال ہے عشق لازوال ہے

عشق جس نے کر لیا وہ کبھی مرا نہیں

آپ ساتھ ہیں نہیںآپ ساتھ ہیں مرے

آپ سے جدا ہوں میں آپ سے جدا نہیں

آئینے میں دیر تک خود کو دیکھتا رہا

دیکھنا تھا جو مجھے وہ مجھے دکھا نہیں

وقت ہی سوال ہے وقت ہی جواب ہے

وقت کا یہ سلسلہ آج تک رکا نہیں

بات سچ ہے یہ تیری ہوں برا ضرور میں

جتنا کہرہے ہو تم اتنا بھی برا نہیں

عشق اور موت میں مت موازنہ کرو

موت کو بقا نہیں عشق کو فنا نہیں

ایک ہی تو بات تھی وہ بھی دل میں رہ گئی

آپ سے کہا نہیں آپ نے سنا نہیں

دامن حیات سے عشق گر نکال دیں

دامن حیات میں پھر تو کچھ بچا نہیں

کون ساتھ ہے میرے کون ساتھ ہے تیرے

یہ تجھے پتا نہیں یہ مجھے پتا نہیں

ایک ہی تو درد ہے اور یہ کہ آج تک

وہ مجھے ملا نہیں میں اسے ملا نہیں

اے جواد جان لو ہے خدا تو مان لو

جسکی ابتدا نہیں اسکی انتہا نہیں

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close