غزل

جانے کس بات پر اڑی ہے دھوپ 

ہر شجر سے بہت لڑی ہے دھوپ 

عبدالکریم شاد

جانے کس بات پر اڑی ہے دھوپ

ہر شجر سے بہت لڑی ہے دھوپ

کوئی سایہ نظر نہیں آتا

دیکھیے ہر طرف کھڑی ہے دھوپ

خود سے باہر نکل کے دیکھ ذرا

راہ میں کس قدر کڑی ہے دھوپ

کوہ کن کے لیے تو دنیا میں

کوئی موسم ہو ہر گھڑی ہے دھوپ

تم جو آؤ تو شام ہو جائے

بام پر صبح سے کھڑی ہے دھوپ

میری سرسبز و نم طبیعت سے

صبح سے شام تک لڑی ہے دھوپ

 چھاؤں خوشیوں کی مل سکی نہ کہیں

رنج کی جا بہ جا پڑی ہے دھوپ

اس کے غصے کا شاد! کیا کہنا

جیسے برسات میں کڑی ہے دھوپ

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close