غزل

جب بھی کرتا ہے ترا ہجر پریشان مجھے 

لگنے لگتی ہے بہت موت بھی آسان مجھے 

جمیل اخترشفیق

جب بھی کرتا ہے ترا ہجر پریشان مجھے

لگنے لگتی ہے بہت موت بھی آسان مجھے

دیکھ کر مجھ کو نہ مصروف ہوا کر پیارے

میں بھی لگتا ہوں کوئ غور سے پہچان مجھے

تیرا پل بھر کے لیے یونہی خفا ہوجانا

کر گیا کتنا ترے شہر میں انجان مجھے

اس سے بڑھ کر بھی محبت کا حوالہ کیا دوں

سب سمجھتے ہیں ترے واسطے نادان مجھے

گر نکلنا ہے تو پھر پہلے تصور سے نکل

کیونکہ کرتا ہے ترا عکس پریشان مجھے

سوچتا رہتا ہوں کب درد سے باہر نکلوں

پڑھنا پڑتا ہے مگر میر کا دیوان مجھے

ایک مدت سے اسی کرب میں جیتا ہوں شفیق

کاش مل جاتا کہیں پیار کا سامان مجھے

مزید دکھائیں

جمیل اختر شفیق

جمیل اخترشفیق صاحب کا تعلق صوبہ بہار کے مشہور ضلع سیتامڑھی کے باجپٹی بلاک کی ایک انتہائ پسماندہ بستی سنڈوارہ سے ہے۔ آپ شاعری کے علاوہ ملک کے درجنوں اخبارات ورسائل کے لیے زمانۂ طالبِ علمی ہی سے کالم لکھتے آئے ہیں اور خوب پڑھے جاتے رہے ہیں۔ ساتھ ہی ملک بھر میں مختلف مذہبی، ادبی، سماجی موضوعات پہ منعقد ہونے والے پروگرام میں بھی ان کی شرکت ہوتی رہتی ہے، ملک کے قد آور شعراء کی موجودگی میں وہ درجنوں آل انڈیا مشاعروں کی تاریخ ساز نظامت بھی کر چکے ہیں اور ایک کامیاب ناظم کی حیثیت سے بھی اُن کی شخصیت بڑی تیزی سے ابھر رہی ہے۔ ممبئ سے نشر ہونے والا ٹیوی چینل "آئی پلس ٹیوی" جسے دنیا بھر میں تین کروڑ سے زیادہ لوگ دیکھتے ہیں اس پہ "رنگ ونور ایک دینی مشاعرہ" کے تحت نشر ہونے والے مشاعرے کی نظامت کرتے ہوئے بھی انہیں ناظرین ہر جمعہ کو دن میں 2.30بجے اور رات میں 7.30بجے متواتر دیکھ رہے ہیں جو کہ بلاشبہ صوبہ بہار کی ادبی دنیا کے لیے فخر کی بات ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close