غزل

جتنا ہوں اُس سے ذرا کم یا زیادہ نہ لگوں

راجیش ریڈی

جتنا ہوں اُس سے ذرا کم یا زیادہ نہ لگوں
یعنی میں جیسا نہیں ہوں کبھی ویسا نہ لگوں

میں نے کتنے ہی نئے کپڑے بدل کر دیکھے
کوئی ایسا نہیں میں جس میں پرانا نہ لگوں

پیاس پر میری کرم ہے یہ مری غیرت کا
کہ کسی دریا کے آگے کبھی پیاسا نہ لگوں

یہ جو ہلکا سا تبسم ہے فقط اِس لئے ہے
جتنا غم ہے مجھے غمگین میں اُتنا نہ لگوں

اِتنا آساں نہیں اِس دور میں ملنا جلنا
سوچنا پڑتا ہے کیسا لگوں کیسا نہ لگوں

تجھ کو رسوائی کاڈر ہے توچلو یوں ہی سہی
کہ ترا ہو کے رہوں پر کبھی تیرا نہ لگوں

خط مکمل کیا آنکھوں سے لہو نے گر کر
اپنی تحریر میں، میں اُس کو ادھورا نہ لگوں

ذات پر میری نہ ہو جائے کسی کا قبضہ
جسم میں اپنے میں دشمن کا علاقہ نہ لگوں

میری تو عمر ہی گذری ہے اِسی کوشش میں
کہ کہیں سے بھی کسی اور کے جیسا نہ لگوں

 

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close