غزل

جن کے پاس نگاہیں ہیں

ان کی اپنی راہیں ہیں

سحر محمود

 جن کے پاس نگاہیں ہیں

ان کی اپنی راہیں ہیں

کیا بس میرے حصے میں؟

آہیں اور کراہیں ہیں

اب وہ کہاں ہے قدرِ سخن

سب اپنوں کو سراہیں ہیں

اپنی دولت سے بڑھ کر

ہر انسان کی چاہیں ہیں

 ان کی خاطر دشمن سے

ہم رشتوں کو نباہیں ہیں

دنیا کا کیا حال کہیں

بس اللہ کی پناہیں ہیں

مسلم کی پہچان فقط

کرتے اور کلاہیں ہیں؟

آج وہی ہیں حق پہ سحر

حاصل جن کو جاہیں ہیں

مزید دکھائیں

سحر محمود

نام: فضل الرحمنقلمی نام: سحر محمودپیدائش (تاریخ و مقام): 26/08/1989 ، ابھراؤں ، کپل وستو، نیپالتعلیم: مکتب : مدرسہ مصباح العلوم، منخوریا شمالی۔ حفظ: معہد عثمان بن عفان، ذاکر نگر، دہلی۔(2006) عالمیت و فضیلت: جامعہ اسلامیہ سنابل، نئی دہلی۔(14-2013) بی- اے اردو (پرائیویٹ): جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی (2018) مصروفیات: مارکیٹنگ مینیجرمعروف قلمی خدمات (مقالات و کتب): بعض رسائل و جرائد میں مضامین و مقالات شائع ہو چکے ہیں۔ شعری مجموعہ : بنام “جہان آرزو” (2016) میں منظر عام پر آچکا ہے۔پسندیدہ قلم کار: نثر نگاروں میں: ابن صفی ، مشتاق احمد یوسفی، سعادت حسن منٹو،ابو الکلام آزاد وغیرہ۔ شعرا میں : میر، غالب،علامہ اقبال،شکیل بدایونی، ساحر لدھیانوی، مجروح سلطانپوری،ناصر کاظمی، محسن نقوی، عباس تابش وغیرہپسندیدہ کتابیں: زاد المعاد ( ابن قیم) غبارِ خاطر( ابو الکلام آزاد) جب زندگی شروع ہوگی ( ابو یحی- ان کی تمام تصنیفات) ۔رہائش: تاہاچل، کٹھمنڈو ، نیپالرابطہ: 9811576091-977+ saharmahmood999@gmail.com

متعلقہ

Back to top button
Close