غزل

جو آفتاب کی کرنوں سے جل گیا ہوگا

نہال جالب

جو آفتاب کی کرنوں سے جل گیا ہوگا

تو ماہتاب یقیناً پگھل گیا ہوگا

.

جو ریل گزری ہے سینے کو روند کر میرے

سو پٹریوں کا کلیجہ دہل گیا ہوگا

.

سڑک پہ بکھرے ہوئے مفلسوں کی لاشے کو

خمارِ زر میں کوئی پھر کچل گیا ہوگا

.

تو کہہ رہا ہے کہ میں عشق تجھ سے کرتا ہوں؟

ترا دماغ بھی دل سا مچل گیا ہوگا

.

اندھیرا اپنے اصولوں پہ اب بھی قائم ہے

وہ شام ہوتے ہی سورج نگل گیا ہوگا

.

تو کیا ملائے گا جالب کو پیار سے اس کے؟

اگر چراغ کا وہ جن  نکل گیا ہوگا !

مزید دکھائیں

متعلقہ

2 تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close