غزل

جگر مرادآبادی کی ایک فارسی غزل کا منظوم اردو مفہوم

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی

یار کے پاؤں پہ کل رات کو کعبہ دیکھا
کیا کہا تونے جگرِ پھر سے بتا کیا دیکھا

حسن پنہاں ہے مگر اس کے ہیں جلوے پُرجوش
اصل خاموش ہے پر فرع کو گویا دیکھا

لا مئے ہوش ربا تاکہ کروں میں آغاز
جادۂ شوق میں بتلاؤں کہ کیا کیا دیکھا

بے خبر چل کے تو یہ دیکھ کہ مستی میں ہے ہوش
ہوش میں رہ کے بھی بیہوشی کا جلوا دیکھا

کیف و مستی میں بیاں میں نے کی اپنی روداد
تونے کیوں ہوش میں یہ میرا فسانا دیکھا

قاضیا ایک نظر سوئے جگر دیکھ ذرا
تیرا خادم ہے تجھے جس نے سراپا دیکھا

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close