غزل

جگر مراد آبادی اور احمد علی برقی اعظمی

جگر مرا آبادی

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے

سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانہ ہے

یہ کس کا تصور ہے یہ کس کا فسانہ ہے

جو اشک ہے آنکھوں میں تسبیح کا دانہ ہے

دل سنگِ ملامت کا ہرچند نشانہ ہے

دل پھر بھی مرا دل ہے، دل ہی تو زمانہ ہے

ہم عشق کے ماروں کا اتنا ہی فسانہ ہے

رونے کو نہیں کوئی ہنسنے کو زمانہ ہے

وہ اور وفا دشمن، مانیں گے نہ مانا ہے

سب دل کی شرارت ہے آنکھوں کا بہانہ ہے

شاعر ہوں میں شاعر ہوں، میرا ہی زمانہ ہے

فطرت مرا آئینہ، قدرت مرا شانہ ہے

جو اُن پہ گذرتی ہے، کس نے اسے جانا ہے

اپنی ہی مصیبت ہے، اپنا ہی فسانہ ہے

آغازِ محبت ہے، آنا  ہے نہ جانا ہے

اشکوں کی حکومت ہے ِ آہوں کا زمانہ ہے

آنکھوں میں نمی سی ہے چُپ چُپ سے وہ بیٹھے ہیں

نازک سی نگاہوں میں، نازک سا فسانہ ہے

ہم درد بدل نالاں، وہ وہ دست بدل حیراں

اے عشق تو کیا ظالم تیرا ہی زمانہ ہے

یا وہ تھے خفا ہم سے۔  یا ہم ہیں خفا اُن سے

کل ان کا زمانہ تھا، آج اپنا زمانہ ہے

اے عشقِ جنوں پیشہ، ہاں عشق جنوں پیشہ

آج ایک ستمگر کو ہنس ہنس کے رُلانا ہے

تھوڑی سی اجازت بھی اے بزم گہہِ ہستی

آ نکلے ہیں دم بھر کو رونا ہے رُلانا ہے

یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

خود حسن و شباب ان کا کیا کم ہے رقیب اپنا

جب دیکھئے تب وہ ہیں، آئینہ ہے، شانہ ہے

ہم عشق مجسم ہیں ، لب تشنہ و مستسقی

دریا سے طلب کیسی، دریا کو رلانا ہے

تصویر کے دو رخ ہیں جاں اور غمِ جاناں

اک نقش چھپانا ہے، اک نقش دکھانا ہے

یہ حسن و جمال ان کا، یہ عشق و شباب اپنا

جینے کی تمنا ہے مرنے کا زمانہ ہے

مجھ کو اسی دُھن میں ہے ہر لحظہ بسر کرنا

اب آئے، وہ اب آئے، لازم نہیں آنا ہے

خودداری و محرومی، محرومی و خود داری

اب دل کو خدا رکھے، اب دل کا زمانہ ہے

اشکوں کے تبسم میں، آہوں کے ترنم میں

معصوم محبت کا معصوم فسانہ ہے

آنسو تو بہت سے ہیں آنکھوں میں جگر، لیکن

بندھ جائے سو موتی ہے، رہ جائے سو دانا  ہے

نذر جگر مراد آبادی

احمد علی برقیؔ اعظمی

طوفانِ حوادث کا دل میرا نشانا ہے
’’اِک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے‘‘

جو وعدہ خلافی میں رسوائے زمانا ہے
ہر حال میں اب اُس کو آئینہ دکھانا ہے

یہ وعدۂ فردا تو بس ایک بہانا ہے
کب اس سے مُکَر جائے کیا اُس کا ٹھکانا ہے

ہے شیشۂ دل نازک ڈر ہے نہ چٹک جائے
تازہ ہے جگر کاوی یہ زخم پُرانا ہے

ناکردہ گناہی کی دینی ہے سزا مُجھ کو
کوئی نہ کوئی آخر گُل اُس کو کھلانا ہے

ہے پیشِ نظر میرے حق گوئی و بیباکی
منھ داورِ محشر کو اک روز دکھانا ہے

اشعار جگرؔ کے ہیں معراجِ غزلخوانی
اعجازِ سخن اُن کا مشہورِ زمانا ہے

میں لے بھی نہیں سکتا ٹُھکرا بھی نہیں سکتا
قسمت میں مری برقیؔ کھونا ہے نہ پانا ہے

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close