غزل

حالات میں دب جاتے ہیں جوہر نہیں کھلتے

ہم جیسے غریبوں کے مقدر نہیں کھلتے

مقصود اعظم فاضلی

حالات میں دب جاتے ہیں جوہر نہیں کھلتے
ہم جیسے غریبوں کے مقدر نہیں کھلتے

رہتے ہیں سدا سایہ فگن سر پہ ہمارے
بادل یہ غموں کے ہیں برس کر نہیں کھلتے

کچھ لوگ ہوا کرتے ہیں اس درجہ پُر اسرار
برسوں کی رفاقت پہ بھی اکثر نہیں کھلتے

لفظوں کی عمارت تو کھڑی ہوتی ہے لیکن
الفاظ و معانی کے نئے در نہیں کھلتے

ملنا بھی یہ ان کا کوئی ملنا ہے کہ اعظم
کھل کر نہیں ملتے کبھی مل کر نہیں کھلتے

مزید دکھائیں

مقصود اعظم فاضلی

جہاناگنج ،ضلع اعظم گڑھ

ایک تبصرہ

  1. لفظوں کی عمارت تو کھڑی ہوتی ہے لیکن
    ادراک و معانی کے نئے در نہیں کھلتے

متعلقہ

Close