غزل

حد سے آگے گزر گیا پانی

مقصود عالم رفعت

حد سے آگے گزر گیا پانی

"جانے کس کس کے گھر گیا پانی”

۔

اب کی بارش ارے معاذاللہ

بام و دیوار و در گیا پانی

۔

جوش سیلاب کا ہوا ٹھنڈا

ندیوں میں ٹھہر گیا پانی

۔

ایسا سیلاب آیا اب کے برس

سر سے اوپر گزر گیا پانی

۔

ریگزاروں کی بات کیا کیجے

کوہساروں میں بھر گیا پانی

۔

سنکڑوں لوگ جب ہوئے بے گھر

ان کی آہوں سے ڈر گیا پانی

۔

قہر ایسا بپا کیا اب کے

زیست دشوار کر گیا پانی

۔

مونہہ تکتا ہی رہ گیا صحرا

پھر سے دریا کو بھر گیا پانی

۔

زندگی ہو گئی عذاب اپنی

اس قدر گھر میں بھر گیا پانی

۔

کشوروں کو بہا گیا رفعت

جب بھی ضد پر اتر گیا پانی

مزید دکھائیں

مقصود عالم رفعتؔ

مقصود عالم رفعت کا تعلق پنڈول، مدھوبنی، بہار سے ہے۔ آپ اردو سے پوسٹ گریجویٹ ہیں اور ایک سرکاری اسکول میں مدرس ہیں۔ آپ نے شاعری کا آغاز 2014 سے کیا تھا اور پہلا شعری مجموعہ ’کربلائے زیست‘ زیر طباعت ہے۔

متعلقہ

Close