غزل

حرّیت کے شجر کا ثمر امن ہے

افتخار راغبؔ

حرّیت کے شجر کا ثمر امن ہے

ہم ہیں آزاد لیکن کدھر امن ہے

۔

قوم و ملت سلامت، اگر امن ہے

جسمِ انسانیت کا جگر امن ہے

۔

قریہء جاں سے شہرِ بدن تک یہاں

دبدبہ خوف کا دربدر امن ہے

۔

ڈھونڈتے ہو کہاں بوئے امن و اماں

جس طرف ہے اخوت اُدھر امن ہے

۔

اہلِ امن و اماں خوف میں مبتلا

ایسا لگتا ہے اب داو پر امن ہے

۔

اُن کی آنکھوں میں ہے عینکِ امن کیا

جن کو آتا ہر اک سو نظر امن ہے

۔

رقص دہشت کا آنکھوں میں راغبؔ ہے کیوں

قریہء جسم و جاں میں اگر امن ہے

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

متعلقہ

Close