غزل

حسنِ اخلاق سے اور جذبۂ ایثار کے ساتھ

ہم محبت سے ملا کرتے ہیں اغیار کے ساتھ 

انورجمال

(مئو)

حسنِ اخلاق سے اور جذبۂ ایثار کے ساتھ

ہم محبت سے ملا کرتے ہیں اغیار کے ساتھ

شہر میں جو بھی منافق ہیں یہی کرتے ہیں

"چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ”

 بے گناہی پہ عدالت سے بری ہوتے ہیں

روز ہوتے ہیں گرفتار جو ہتھیار کے ساتھ

ہم تو ماں باپ سے بھی آج الگ رہتے ہیں

وہ مہاجر تھے، رہا کرتے تھے انصار کے ساتھ

اب یہاں کس پہ کرے کوئی بھروسہ آخر

جب سیاست کی ہوں سرگوشیاں اخبار کے ساتھ

چند لمحوں کے لئے ایک نہیں ہوتے ہم

پھول کو دیکھو سدا رہتا ہے وہ خار کے ساتھ

ہم کو اسلام نے یہ درس دیا ہے انور

دشمنِ جاں ہو کوئی تب بھی ملو پیار کے ساتھ

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close