غزل

حسن سادہ کا وار آنکھیں ہیں

فوزیہ ربابؔ

حسن سادہ کا وار آنکھیں ہیں
بِن ترے بے قرار آنکھیں ہیں

۔

میری جانب ہے جو ترا چہرہ
میری جانب ہزار آنکھیں ہیں
۔

عیب تیرا کہاں چھپے گا اب
شہر میں بے شمار آنکھیں ہیں
۔

میں نے طرزِ وفا تھا اپنایا
اس لیے اشکبار آنکھیں ہیں

۔

پارسائی کہاں گئی بولو
آج کیوں داغدار آنکھیں ہیں

۔

ایک نقشہ تھا خواب کا کھینچا
اس لیے تار تار آنکھیں ہیں

۔

جیسے ان میں سحاب رہتے ہوں
کتنی زار و قطار آنکھیں ہیں

۔

جن کی تعبیر میں ملے وحشت
ایسے خوابوں پہ بار آنکھیں ہیں

۔

وہ جو چہرہ ہی پڑھ نہیں سکتیں
کتنی جاہل گنوار آنکھیں ہیں

۔

ہر نظر آر پار ہوتی ہے
ہائے کیا دل فگار آنکھیں ہیں

۔

خواب دیکھا ربابؔ نے کیوں کر
کیوں بہت سوگوار آنکھیں ہیں

مزید دکھائیں

فوزیہ ربابؔ

نسوانی جذبات و احساسات کی پُر تاثیر عکاسی کرنے والی اور شاعری و نثر نگاری میں یکساں درک رکھنے والی منفرد لب و لہجہ کی شہزادیِ سخن محترمہ فوزیہ ربابؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات کے دار الحکومت احمد آباد کے ایک معروف علمی و دینی گھرانے سے ہے. بچن ہی سے آپ کو شعر و ادب کے مطالعے کا شوق رہا ہے. آپ نے گجرات یونیورسی ٹی سے ایم اے اور بی ایڈ کی ڈگڑی حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن اینڈ جرنلجزم کی ڈگری بھی حاصل کی ہے. طالب علمی کے زمانے ہی سے شعر گوئی کی طرف راغب ہیں. شادی کے بعد 2010 سے گوا میں مقیم ہیں اور وہیں سے عالمی ادب میں اپنی منفرد اور معتبر شناخت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کر چکی ہیں. سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے مختلف ذرائع سے آپ کا کلام پوری اردو دنیا میں روز بروز مقبولیت حاصل کر رہا ہے. آپ متعدد ادبی تنظیموں اور رسالوں وغیرہ سے وابستہ ہیں. اتنی کم عمری ہی میں کئی ایوارڈ و اعزاز سے نوازی جا چکی ہیں نیز پاکستان میں بھی آپ کے اعزاز میں مشاعرہ منعقد ہوچکا ہے. ہندوستان کے متعدد معیاری عالمی و کل ہند مشاعروں میں با وقار و کامیاب شرکت کر چکی ہیں. آپ کی شاعری کا پہلا مجموعہ "آنکھوں کے اُس پار" اکتوبر 2017 میں عرشیہ پبلیکیشنز دہلی سے شائع ہو کر مقبولیت حاصل کر رہا ہے اور دوسرا مجموعہ زیرِ ترتیب ہے. آپ کی شاعری کی انتہائی دیدہ زیب اینڈرائڈ ایپ بھی تیار ہو چکی ہے جسے Play Store میں Foziya Rabab Poetry سے تلاش کر کے موبائیل میں انسٹال کر کے پڑھا جا سکتا ہے. آپ کی غزلیں جہاں احساسات و جذبات و دلکشی سے لبریز ہوتی ہیں وہیں آپ کی نظموں میں بلا کی روانی کے ساتھ زبان و بیان کی چاشنی اپنی الگ دل ربائی کی خوشبو لٹاتی ہے جن کو پڑھ کر قاری افکار و تخیل کی حسیں وادی میں گم سا ہو جاتا ہے.

متعلقہ

Close