غزل

حضرت امیر خسرؔ و دہلوی کی ایک فارسی غزل کا منظوم اردو ترجمہ

احمد علی برقیؔ اعظمی

خبر ملی ہے کہ تو اے نگار آئے گا
فدائے جادہ ہوں جس سے سوار آئے گا
میں جاں بلب ہوں تو آ ، تاکہ زندہ ہوجاؤں
نہیں رہا تو، تو کیا کرنے یار آئے گا
میں جانتا ہوں اذیت فراق کی تیرے
تو مجھ سے ہونے مگر ہمکنار آئے گا
تو میرے دل میں ہے ،سوزِ دروں بھی ہے اس میں
اِدھر کا رخ جو کیا دلفگار آئے گا
تمام آہوئے صحرا ہیں سربکف ، کرنے
تو اِس دیار میں اُن کا شکار آئے گا
کشش یہ عشق کی تجھ کو یونہی نہ چھوڑے گی
جنازے میں نہیں گر، بَر مزار آئے گا
تو ایک بار میں خسروؔ کا ہو گیا دلبر
کروں گا کیا میں اگر چند بار آئے گا

حضرت امیر خسرو کی فارسی غزل

خبرم رسید امشب که نگار خواهی آمد

سر من فدای راهی که سوار خواهی آمد

به لبم رسیده جانم، تو بیا که زنده مانم

پس از آن که من نمانم، به چه کار خواهی آمد

غم و قصه فراقت بکشد چنان که دانم

اگرم چو بخت روزی به کنار خواهی آمد

منم و دلی و آهی. ره تو درون این دل

مرو ایمن اندر این ره که فگار خواهی آمد

همه آهوان صحرا سر خود گرفته بر کف

به امید آن که روزی به شکار خواهی آمد

کششی که عشق دارد نگذاردت بدینسان

به جنازه گر نیایی، به مزار خواهی آمد

به یک آمدن ربودی، دل و دین و جان خسرو

چه شود اگر بدین سان دو سه بار خواهی آمد

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close