غزل

حق پر جو  لوگ جیا کرتے ہیں

جام شہادت ہی   پیا کرتے ہیں

بشارت علی بٹ عاجز

حق پر جو  لوگ جیا کرتے ہیں

جام شہادت ہی   پیا کرتے ہیں

حق سے بے بہرہ بھی اکثر لوگ

حق ہونے کا دعویٰ کیا کرتے ہیں

دنیا میں امن لانے کا دعویٰ کرکے

نئے فتنوں کو جنم  دیا کرتے ہیں

مذہب کے وہ رنگین پیوند لگا کر

سیاست کے دامن سیا کرتے ہیں

زمانے کو روشن وہ کرنے چلے ہیں

چھینا مفلس کا جو دیا کرتے ہیں

اتر کر یہ الفاظ بر روی قرطاس

 عاجز ، قلم کا شکریہ کرتے ہیں

مزید دکھائیں

بشارت علی بٹ

بشارت علی ڈوڈہ جموں و کشمیر پی ایچ ڈی اسکالر فارسی مولانا آزاد اردو یونیورسٹی لکھنؤ

2 تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close