غزل

حیاتِ جہاں ایک فانی شراب

مجھے چاہیے جاودانی شراب

عبدالکریم شاد

حیاتِ جہاں ایک فانی شراب

مجھے چاہیے جاودانی شراب

ہٹا سامنے سے سبو کو ہٹا

پلا ساقیا آسمانی شراب

تری اک نظر نے یہ کیا کر دیا

ہوئی شرم سے پانی پانی شراب

پیے جاتے ہیں لوگ شربت کی طرح

حقیقت میں ہے زندگانی شراب

غضب کا مزہ دونوں رکھتے ہیں یار!

پرانی محبت, پرانی شراب

کھرا دودھ ہے بچپنا شاد جی!

بڑھاپا ہے پانی, جوانی شراب

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close