حیرت ہے کہ ہر آدمی ناکام بہت ہے

احمد نثارؔ

افکار میں یہ شعلئہ گلفام بہت ہے

آشفتہ سرِ دل مِرا بدنام بہت ہے

جنبش تو شب و روز کیا کرتا ہے لیکن

حیرت ہے کہ ہر آدمی ناکام بہت ہے

اب وصل کی چاہت ہے نہ دیدار کی حسرت

میرے دلِ غمگیں کو تِرا نام بہت ہے

اب زخموں کو مرحم کی ضرورت ہی نہیں ہے

اتنے ہیں ملے زخم کہ آرام بہت ہے

انسان حقیقت کی شناسائی سے محروم

خوش فہمیِ دل کار گرِ خام بہت ہے

صحرائے ندامت کو ذرا تر بھی تو کرلے

اشکوں کو نثارؔ آپ کا پیغام بہت ہے

⋆ احمد نثار

احمد نثار

نام سید نثار احمد، قلمی نام احمد نثار۔ جائے پیدائش شہر مدنپلی ضلع چتور آندھرا پردیش۔ درس و تدریس سے رضاکار موظف۔
اردو ادب، شاعری، تحقیق، ٹرائننگ اہم دلچسپیاں۔ انگریزی، ہندی تیلگو اور اردو زبانوں میں مہارت۔
کمیونکیشن اسکلز ایکسپرٹ۔
شعری مجموعہ روحِ کائنات، کہکشانِ عقیدت (نعتیہ مجموعہ) سکوتِ شام (زیرِ ترتیب)،
تصنیف مواصلاتی مہارات برائے بی یو یم یس طلباء (Communication Skills for BUMS Students) ۔
ویکی پیڈین و ویکی میڈین۔
فی الحال رہائش پونے/ممبئی، مہاراشٹر۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

چاہتِ زیست لیے جیتے ہیں مر جاتے ہیں

ہم بھی گمنام کسی نام پہ مرجاتے ہیں اور مر کر بھی تِرا نام ہی کر جاتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے