غزل

حیرت ہے کہ ہر آدمی ناکام بہت ہے

احمد نثارؔ

افکار میں یہ شعلئہ گلفام بہت ہے

آشفتہ سرِ دل مِرا بدنام بہت ہے

جنبش تو شب و روز کیا کرتا ہے لیکن

حیرت ہے کہ ہر آدمی ناکام بہت ہے

اب وصل کی چاہت ہے نہ دیدار کی حسرت

میرے دلِ غمگیں کو تِرا نام بہت ہے

اب زخموں کو مرحم کی ضرورت ہی نہیں ہے

اتنے ہیں ملے زخم کہ آرام بہت ہے

انسان حقیقت کی شناسائی سے محروم

خوش فہمیِ دل کار گرِ خام بہت ہے

صحرائے ندامت کو ذرا تر بھی تو کرلے

اشکوں کو نثارؔ آپ کا پیغام بہت ہے

مزید دکھائیں
Close