غزل

حیف ہے صبح کا بادل ہی جو کالا نکلا

ادریس آزاد

حیف ہے صبح کا بادل ہی جو کالا نکلا
چادرِ شب میں لپٹ کریہ سویرا نکلا

دہر میں جس کا شَرر آگ سے آگے ہے کہیں
کیسی مٹی ہے یہ جس سے ترا بندہ نکلا

دیکھ تو کیسے چھلک کر تری جانب لپکا
تیرے ہونٹوں کا تو یہ جام بھی پیاسا نکلا

اِک حسیں نے مری تقدیر بدل ڈالی ہے
جس کو میں چاند سمجھتا تھا ستارہ نکلا

تُو نے دیکھا ہی نہیں ،ظلم کیا ہے مجھ پر
دِل سے ایمان ویقیں سارے کا سارا نکلا

وہ عمارت سی گِری تھی جو مرے سینے میں
اُس کی بنیاد سے، کہتے ہیں ، دفینہ نکلا

ایسا کیا تُو نے کیا تھا کہ تری محفل سے
مرگیا مرگیا، ہرشخص یہ کہتا نکلا

عشق پائندہ ، تُو رخشندہ ، وفا زندہ باد!
آپ کو دیکھ کے بے ساختہ نعرہ نکلا

دیکھ تو! رنگ بھی تصویر سے بچھڑے ہوئے ہیں
اور تم سے بھی تو اپنا یہی رشتہ نکلا

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Back to top button
Close