غزل

خرد گزیدہ جنوں کا شکار یعنی میں

افتخار راغبؔ

خرد گزیدہ جنوں کا شکار یعنی میں

ملا تھا غم کو بھی اک غم گسار یعنی میں

محبتیں نہ لٹاتا تو اور کیا کرتا

وفورِ شوق کا آئینہ دار یعنی میں

چمک رہا تھا موافق تری توجّہ کے

خلوص و مہر و وفا کا دیار یعنی میں

 عظیم چاک پہ تھی انکسار کی مٹّی

بنا تھا کوزہ کوئی شاہکار یعنی میں

مرے خدا نہیں تھمتا یہ ظلم کا طوفان

اور اس کے سامنے مشتِ غبار یعنی میں

ہوئی تھی جب بھی ترے التفات کی بارش

لہک اٹھا تھا ترا لالہ زار یعنی میں

دیارِِ شعر و سخن میں تھا جلوہ گر ہر سو

ترے کرم کا حسیں اشتہار یعنی میں

زہے نصیب! حوادث میں بھی نہیں ٹوٹا

ترا غرور ترا افتخار یعنی میں

ہے مستقل مرے سینے میں درد یعنی توٗ

نہ رہ سکا ترے دل میں قرار یعنی میں

ہر ایک بات مری کر رہا تھا رد راغبؔ

مرے سخن پہ تھا کوئی سوار یعنی میں

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close