غزل

خنجر کی ضرورت ہے نہ چاقو کی ضرورت

دشمن کو مٹانے کو ہے بازو کی ضرورت

مجاہد ہادؔی ایلولوی

خنجر کی ضرورت ہے نہ چاقو کی ضرورت
دشمن کو مٹانے کو ہے بازو کی ضرورت

بے چینی کے عالم میں گزرتی ہے ہر اک شب
ہے نیند کو بھی یار کے پہلو کی ضرورت

آقا کا پسینہ جسے مل جاتا تھا اک بار
اس کو کبھی پڑتی نہ تھی خوشبو کی ضرورت

زنجیر سے تم قید مجھے کر نہیں سکتے
اس کے لئے ہے یار کے گیسو کی ضرورت

مجبور جو ہوتا ہے وہی کرتا ہے چوری
سوچا کبھی کیا ہے کسی ڈاکو کی ضرورت

الجھی ہوئی زلفوں میں الجھتی ہیں جو فکریں
محسوس تبھی ہوتی ہے اردو کی ضرورت

للچائی نظر سے نہ تو کوٹھے کی طرف دیکھ
پڑ سکتی ہے ورنہ تجھے گھنگرو کی ضرورت

یہ حسن ترا خاک میں مل جائے گا اک دن
رب کو نہیں ہادؔی ترے گُل رُو کی ضرورت

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

متعلقہ

Back to top button
Close