غزل

خواب آتے ہیں، جگاتے ہیں چلے جاتے ہیں

آنکھ سےنیند اُڑاتے ہیں چلے جاتے ہیں

سالک ادؔیب بونتی

خواب آتےہیں، جگاتے ہیں چلے جاتے ہیں
آنکھ سے نیند اُڑاتے ہیں  چلے جاتے   ہیں

جانےکیاسوچ کےملتےہیں خداہی  جانے
لوگ صدمات سناتےہیں چلے جاتے  ہیں

کچھ توایسےہیں زمانےسےجداہوکربھی
اپنا کردار نبھاتےہیں   چلے  جاتے    ہیں

دردمیں کچھ بھی افاقہ نہیں ہوتاجب لوگ
ہم سے بس ہاتھ ملاتےہیں چلےجاتےہیں

بیٹھ  کر  شاخِ صنوبر  پہ  پرندے  اکثر
داستاں اپنی سناتےہیں چلے  جاتے  ہیں

کتنےمعصوم ہیں سب یارہمارےدیکھو
دل میں امیدجگاتےہیں چلے جاتے  ہیں

رہزنِ قوم ہیں رہبرکےلبادے میں  ادؔیب
آگ گھرگھرمیں لگاتےہیں چلےجاتے ہیں

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close