خود میں یوں ہی نہ رائگاں ہو جاؤں

افتخار راغبؔ

 خود میں یوں ہی نہ رائگاں ہو جاؤں

بند توڑوں رواں دواں ہو جاؤں

مجھ پہ الزامِ عشق ہو اور میں

اپنے حق میں ترا بیاں ہو جاؤں

 موسمِ زرد کا تقاضا ہے

سبز پتوں کی داستاں ہو جاؤں

 دیکھ کر بھی نہ کچھ دکھائی دے

اس قدر بھی نہ خوش گماں ہو جاؤں

 اِس طرح دوں ہر امتحاں اے دل

ممتحن کا ہی امتحاں ہو جاؤں

 جب وہ پوچھیں کہ تم ہی راغبؔ ہو

ہونٹ سِل جائیں اور میں ہاں ہو جاؤں

⋆ افتخار راغب

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور ‘یعنی تو’ منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib – Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں.
افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

تھے صورتِ سوال سبھی اُس کے گھر کے پاس

تھے صورتِ سوال سبھی اُس کے گھر کے پاس گویا ہر اِک جواب تھا دیوار و در کے پاس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے