غزل

خود کو جو پارسا سمجھتے ہیں

وہ سبھی کو برا سمجھتے ہیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

خود کو جو پارسا سمجھتے ہیں
وہ سبھی کو برا سمجھتے ہیں

لوگ جاں دینے کو محبت میں
عشق کی انتہا سمجھتے ہیں

بن سنور کر نکلتے ہیں جب لوگ
کیا پتہ خود کو کیا سمجھتے ہیں

کتنے بھولے ہیں لوگ بھارت میں
چور کو رہنما سمجھتے ہیں

کیوں وہی بے وفا نکلتا ہے
جس کو ہم با وفا سمجھتے ہیں

اب حکومت ہے ان کے ہاتھوں میں
جھوٹ کو جو ادا سمجھتے ہیں

جوہری تو نہیں مگر پھر بھی
کیا ہے کھوٹا کھرا سمجھتے ہیں

آپ کی سانسوں میں بسے ہیں ہم
آپ کی ہر ادا سمجھتے ہیں

ان کو عہدہ ہے مل گیا جب سے
تب سے خود کو خدا سمجھتے ہیں

آپ سے بار بار ملنے کو
دردِ دل کی دوا سمجھتے ہیں

صرف میک اپ کا یہ کمال ہے بس
اس کو سب اپسرا سمجھتے ہیں

چاند سورج بھی خود ہے اک مخلوق
ان کو ناداں خدا سمجھتے ہیں

بھوکا سوئے ہمارا ہم سایہ
اس کو بھی ہم خطا سمجھتے ہیں

مال داری ہو یا کہ فاقہ کشی
اس کو رب کی عطا سمجھتے ہیں

ہم نہیں ڈرتے موت سے ہادؔی
اس میں اپنی بقا سمجھتے ہیں

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close