غزل

خوش فہمیوں کے فریم میں چہرہ تو کوئی اور تھا

آئینہ رکھ کے سامنے دیکھا تو کوئی اور تھا

افتخار راغبؔ

خوش فہمیوں کے فریم میں چہرہ تو کوئی اور تھا

آئینہ رکھ کے سامنے دیکھا تو کوئی اور تھا

آنکھوں میں تیری ڈوب کے، کیا ہو گیا ہوں دیکھ لے

ابھرا تو کوئی اور ہوں، ڈوبا تو کوئی اور تھا

میں مبتلاے عشق ہوں، اپنے جنوں کا رزق ہوں

عقل و خرد کے دار پر لٹکا تو کوئی اور تھا

ضربِ وفا سے آپ کی نکھری تھی میری زندگی

ٹوٹا تو کوئی اور تھا، بکھرا تو کوئی اور تھا

چلتا نہیں ہے کچھ پتا، تعمیر ہو رہا ہے کیا

تیری وفا کا ذہن میں نقشہ تو کوئی اور تھا

غیروں پہ التفات سے، ترکِ وفا کی بات سے

جلتا تو کوئی اور تھا، بجھتا تو کوئی اور تھا

قسمت تھی یا مری خطا، راغبؔ تھا میرا دل سوا

گزرا الگ ہی سانحہ خدشہ تو کوئی اور تھا

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close