غزل

دار پر حد سے سِوا یار آئی 

اس بشر کو تو وفا یاد آئی

نادیہ عنبر لودھی

دار پر حد سے سِوا یار آئی

اس بشر کو تو وفا یاد آئی

گُل کی خوشبو تھی جہاں پر ناپید

اُس گلی باد ِ صبا یاد آئی

بجھ گئی شب  کو اگر خواہش ِدل

  چارہ گر تجھ کو دوا یاد آئی

چلتے چلتے جو جلاتے گئے دیپ

ظلمتِ شب کی ادا یاد آئی

جیتے جیتے رہے عنبر مدہوش

مرنے والے  کو قضا یاد آئی

مزید دکھائیں

نادیہ عنبر لودھی

نادیہ عنبر لودھی شاعری اور نثر کی جاندار آواز ہیں۔ آپ برطانیہ کے اردو اخبارات سے شہرت حاصل کرنے والی پاکستانی لکھاری ہیں۔ جنہیں ادبی ایوارڈ 2017 سے بر طانیہ میں نوازا گیا۔ جو بچوں اور خواتین کے مسائل پہ لکھتی ہیں۔‬آپ خواتین اور بچوں کی بے بسی پہ قلم اٹھاتی ہیں۔

2 تبصرے

  1. واہ،، بہت ہی لاجواب اور بہترین غزل ہے محترمہ نادیہ عنبر لودھی صاحبہ کی،
    آپ نے اپنی شاعری میں یارانہ ،دوستی،،وفا پرستی کی بہترین تعریف
    بیان کی ہے،
    ★بجھ گئی شب کو اگر،خواہش دل*چارہ گر تجھ کو دویاد آئی★

    کیا کہنے،، ایسی پیاری اور بہترین غزل پہلی بار پڑھنے کو ملی،، آپ کی شاعری میں ایک الگ طرح کی مقناطیسی کشش ہے جو قاری کو بار بار پڑھنے پر
    مجبو، ر کردیتی ہے

  2. واہ،، بہت ہی لاجواب اور بہترین غزل ہے محترمہ نادیہ عنبر لودھی صاحبہ کی،
    آپ نے اپنی شاعری میں یارانہ ،دوستی،،وفا پرستی کی بہترین تعریف
    بیان کی ہے،
    ★بجھ گئی شب کو اگر،خواہش دل*چارہ گر تجھ کو دوایاد آئی★

    کیا کہنے،، ایسی پیاری اور بہترین غزل پہلی بار پڑھنے کو ملی،، آپ کی شاعری میں ایک الگ طرح کی مقناطیسی کشش ہے جو قاری کو بار بار پڑھنے پر
    مجبو، ر کردیتی ہے

متعلقہ

Close