غزل

دامن دراز عشق میں ہارے بہت ملے

ہم کو گمان کم کا تھا بارے بہت ملے

الف اطہر نعیمی

دامن دراز عشق میں ہارے بہت ملے

ہم کو گمان کم کا تھا بارے بہت ملے

 خود غرضیوں کے ساتھ سہارے بہت ملے

ہم کو برائے نام ہمارے بہت ملے

افسوس! ہو سکا نہ کوئی راہبر مرا

ویسے تو آسمان پہ تارے بہت ملے

وہ اور ہوں گے جن کا تعلق خوشی سے تھا

ہم کو غمِ حیات کے مارے بہت ملے

ایذا پسند دل تھا سو ایذا طلب رہا

ورنہ مسرتوں کے اشارے بہت ملے

پھر آگیا یقین فریبِ نگاہ پر

پہلے محبتوں کے نظارے بہت ملے

بزمِ جنوں میں جتنے تھے سب بے نیاز تھے

بزمِ خرد میں ہاتھ پسارے بہت ملے

اطہر ہماری راہ تھی طغیانیوں کے ساتھ

بحرِ وفا کے ہم کو کنارے بہت ملے

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close