غزل

دلربا سامنے آؤ تو کوئی بات بنے

رخ سے پر دے کو اٹھاؤ تو کوئی  بات بنے

محمد طاھر زلفی

(پیپل سانوی مرادآباد)

دلربا سامنے آؤ تو کوئی بات بنے

رخ سے پر دے کو اٹھاؤ تو کوئی  بات بنے

زلف شانے پہ سجاؤ تو کوئی بات بنے

چاند سے ابر ہٹاؤ تو کوئی  بات بنے

دل سے نفرت کو مٹاؤ تو کوئی  بات بنے

پیار کا دیپ جلاؤ تو کوئی  بات بنے

مجھکو اتنانہ ستاؤ تو کوئی  بات بنے

اپنے سینے سے لگاؤ تو کوئی  بات بنے

مرے خوابوں میں تو ہر روز چلے آتے ہو

میرے پہلو میں بھی آو تو کوئی  بات بنے

موج طوفاں میں پھنسی جاتی ہےکشتی مری

آکے ساحل سے لگاؤ تو کوئی  بات بنے

بوڑھے ماں باپ کی خدمت کاسھارالیکر

راہ جنت کی بناؤ تو کوئی بات بنے

بس کتابوں میں تواپنا مجھے لکھ لیتے  ہو

یہ زمانہ کو بتاؤ تو کوئی بات بنے

منتظر ہوں تری باہوں میں گزاروں راتیں

پھر حسیں گیت سناؤ تو کوئی  بات بنے

نیند آنکھوں سے چرانا عجب ہے لیکن

دل پہ خنجر کو چلاؤ تو کوئی  بات بنے

جام و مینا بھی ہیں حاصل مجھے زلفی لیکن

جام نظروں سے پلاؤ تو کوئی  بات بنے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close