غزل

دل کی ہربات جانتے ہیں ہم

خوف وخدشات جانتےہیں ہم

سالک ادیب بونتی

دل کی ہربات جانتے ہیں ہم

خوف وخدشات جانتےہیں ہم

تجھکوپرکھاہے ہم نے اندرسے

تیری اوقات جانتےہیں ہم

ہم نے دیکھی ہے ہراداتیری

 تیرےدن رات جانتےہیں ہم

دھوپ چھاؤں کاکھیل دیکھاہے

اور برسات جانتےہیں ہم

تیرےہرکام کی خبرہے ہمیں

تیری ہربات جانتےہیں ہم

ہم کومعلوم ہے خوشی کیاہے

غم کےحالات جانتےہیں ہم

ہنس کےملتےہیں جوادیب آکر

ان کےجذبات جانتےہیں ہم

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close