غزل

دنیا بھی عارضی ہے مسکن بھی عارضی ہے

عمران عالم

دنیا بھی عارضی ہے مسکن بھی عارضی ہے

سانسوں کی انجمن میں گلشن بھی عارضی ہے

۔

کرتا ہوں عرض سن لو ارض و سما کے باسی

عارض کی عارضی بھی دھڑکن بھی عارضی ہے

۔

نکلے ہیں جب سفر میں چھانیں گے خاک صحرا

رہبر کی کیا ضرورت رہزن بھی عارضی ہے

۔

بے ساختہ لبوں سے کچھ پھول جھڑ گئے ہیں

معلوم تھا مجھے بھی سوزن بھی عارضی ہے

۔

شمعیں جلاؤ یا پھر قلب و جگر جلا دو

صورت ملے تو کیوں کر؟ درپن بھی عارضی ہے

۔

بادل کے درمیاں سے کرنیں جو آرہی ہیں

عالم سمجھ بھی جاؤ روزن بھی عارضی ہے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close