غزل

دو روز کی محفل ہے اک عمر کی تنہائی

عمران عالم

بے باک نگاہوں میں الجھن سی نظر آئی

دیکھی جو کنکھیوں سے اک شوخ کی انگڑائی

۔

اک بات جو پوچھی تو سو بات نکل آئی

محبوب کی آنکھوں میں دنیا ہی اتر آئی

۔

آؤ کہ نگاہوں سے کچھ جام ہی چھلکا دیں

"دو روز کی محفل ہے اک عمر کی تنہائی”

۔

پابند سلاسل ہوں دھڑکن بھی مری قیدی

کچھ یاد نہیں مجھ کو راحت یہ کہاں پائی

۔

الزام رکھوں کس پر تفتیش کروں کیسے

کچھ حسن میں نخرے تھے کچھ عشق بھی ہرجائی

۔

کیوں بخت سے نالاں ہو معلوم نہیں تم کو

غالب نے بھی مانا تھا امید نہ بر آئی

۔

امروز کی نظروں سے ماضی کے دریچوں تک

کچھ راز نہیں کھلتا کیوں عشق میں رسوائی

۔

رہتے ہو کہاں عالم کچھ بات بھی ہے تم میں؟

کچھ بات نہیں لیکن دنیا ہوئی سودائی

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close