غزل

راستے کہتے ہیں، گزر تو سہی

مرحلے کہتے ہیں، ٹھہر تو سہی

عبدالکریم شاد

راستے کہتے ہیں، گزر تو سہی

مرحلے کہتے ہیں، ٹھہر تو سہی

رفعتیں خود ترے قدم لیں گی

زینۂ ذات سے اتر تو سہی

میرے ہونٹوں کی خامشی پہ نہ جا

میری آنکھوں سے بات کر تو سہی

دیکھ تو کتنا خوب صورت ہے

آئینے میں کبھی سنور تو سہی

چن کے رکھے گی تجھ کو یہ دنیا

موتیوں کی طرح بکھر تو سہی

تجھ کو دیدار ہو خدا کا نصیب

اے رخ زندگی! نکھر تو سہی

اس کا دل تو ضرور پگھلے گا

اپنی آنکھوں میں اشک بھر تو سہی

ہم سفر کا پتا چلے گا تجھے

راہ حق سے کبھی گزر تو سہی

تجھ کو پلکوں پہ سب بٹھائیں گے

آنسوؤں جیسا کام کر تو سہی

تجھ میں خود ہی نکھار آئے گا

زندگی! آئینے سے ڈر تو سہی

یاد رکھے گی تجھ کو دنیا شاد!

تو شہیدوں کی موت مر تو سہی

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close