غزل

روٹھنے اور منانے کے دن خوب تھے

سالک ادیب بونتی

روٹھنے اور منانے کے دن خوب تھے
چُھپ کے آنسو بہانے کے دن خوب تھے

قسمیں وعدے نبھانے کے دن خوب تھے
وہ بہانے بنانے کے دن خوب تھے

وہ زمانہ حسیں اور پُرکیف تھا
بے سبب مسکرانے کے دن خوب تھے

تھوڑاڈرنا، جھجکنا ، نظر پھیرنا
دل کی حالت بتانے کے دن خوب تھے

صرف شوقِ تکلم میں انجان سے
پاس آ آ کے جانے کے دن خوب تھے

ہوکے رُسوائی سے بے خبرہر گھڑی
خود کو پاگل بنانے کے دن خوب تھے

نام لکھنا کسی کا اُلٹ پھیرکر
اورسالک مٹانےکےدن خوب تھے

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close