غزل

رہ حیات پہ کب اپنی شرمسار چلے

مقصود عالم رفعتؔ

رہ حیات پہ کب اپنی شرمسار چلے

جہاں جہاں بھی چلے ہم صدافتخار چلے

۔

پھر آج کوچہِ جاناں سے سوگوار چلے

وہ بیقرار جو آئے تھے بیقرار چلے

۔

لکیریں ہاتھوں کی تدبیر سے بدل ڈالیں

یوں اپنے بگڑے مقدر کو ہم سنوار چلے

۔

چلو سکون سے مدفن میں اپنے سوئیں گے

کہ بوجھ زیست کا ہم سر سے آج اتار چلے

۔

مچل رہی ہے سماعت تڑپ رہا ہے دل

"کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے”

۔

یہاں سنبھل کے قدم رکھنا راہ عشق ہے یہ

کہ تخت وتاج لٹا کر یاں تاجدار چلے

۔

ہر ایک گل ہے فسردہ سا گلشن دل کا

اب آبھی جائیے کچھ موسم بہار چلے

۔

ہمارا مشق سخن میں بھی دل نہیں لگتا

چلے بھی آؤ کہ شعروں کا کاروبار چلے

۔

ہو چاہے رزم محبت کہ جنگ کا میداں

کہ ہم جہاں بھی چلے بن کے شہسوار چلے

۔

یوں ہی نہیں ہمیں حاصل ہوئی یہاں رفعت

کہ ہم برہنہ پا شعلوں پہ بار بار چلے

مزید دکھائیں

مقصود عالم رفعتؔ

مقصود عالم رفعت کا تعلق پنڈول، مدھوبنی، بہار سے ہے۔ آپ اردو سے پوسٹ گریجویٹ ہیں اور ایک سرکاری اسکول میں مدرس ہیں۔ آپ نے شاعری کا آغاز 2014 سے کیا تھا اور پہلا شعری مجموعہ ’کربلائے زیست‘ زیر طباعت ہے۔

متعلقہ

Close