غزل

رہ گئی بن کے اک داستاں زندگی

ہو گئی پیار سے بدگماں زندگی

مجاہد ہادؔی ایلولوی

رہ گئی بن کے اک داستاں زندگی
ہو گئی پیار سے بدگماں زندگی

تھی مری بیکراں شادماں زندگی
ہو گئی درد و غم کی دکاں زندگی

پستیوں سے زمیں کی اٹھاکر بھلا
کیسے کر دوں تجھے آسماں زندگی

کیا چھپاؤں زمانے سے حالات کو
حالِ دل کرتی ہے خود بیاں زندگی

میں ثریّا تلک تجھ کو لے جاؤں گا
اب نہ دیکھے گی تُو پستیاں زندگی

مصطفی کی زیارت کا خواہاں ہو میں
ختم کردے تو یہ دوریاں زندگی

موت کی مجھ کو کرنی ہے تیاریاں
"تو نہ آنا ابھی درمیاں زندگی”

موت ہے قبر ہے اور محشر بھی ہے
پار کرنی ہے سب گھاٹیاں زندگی

رنگ اپنا ہمیشہ بدلتی ہے تو
ہو گئی یہ حقیقت عیاں زندگی

اب سنبھل کر قدم رکھنا ہادؔی ذرا
لے رہی ہے ترا امتحاں زندگی

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close