زعمِ ہستی مرے ادراک سے باندھا گیا ہے 

عرفان وحید

زعمِ ہستی مرے ادراک سے باندھا گیا ہے

اور بدن طرہء پیچاک سے باندھا گیا ہے

ایک آنسو تری پوشاک سے باندھا گیا ہے

یا ستارا کوئی افلاک سے باندھا گیا ہے

عشق کو گیسوئے پیچاک سے باندھا گیا ہے

اور پھر گردشِ افلاک سے باندھا گیا ہے

خاک اڑاتا ہوں میں تا عمر نبھانے کے لیے

ایک رشتہ جو مرا خاک سے باندھا گیا ہے

ٹوٹے پڑتے ہیں تماشے کو یہاں پر نخچیر

آج صیاد کو فتراک سے باندھا گیا ہے

کشتِ وحشت ہو جسے دیکھنی آئے دیکھے

ہر بگولہ خس و خاشاک سے باندھا گیا ہے

پھر وہی حرفِ تمنا ہے وہی ساعتِ درد

پھر ہمیں دیدہء نمناک سے باندھا گیا ہے

اب کسی کوزہ گری کی نہیں حاجت کہ مجھے

تا فنا ایک اسی چاک سے باندھا گیا ہے

ہم گنہ گاروں کی ہے آخری امید وہی

عہد اک جو شہِ لولاک سے باندھا گیا ہے

کجا یہ شوخ ادا دنیا، کجا میں عرفان

مردِ سادہ زنِ بیباک سے باندھا گیا ہے

⋆ عرفان وحید

عرفان وحید

عرفان وحید کا تعلق پنجاب کے شہر مالیر کوٹلہ سے ہے۔ آپ پیشے سے انجینیر ہیں۔ عرفان نے اردو اور انگریزی میں قریباً ۲۰ کتابیں ترجمہ کی ہیں۔ آپ انگریزی ماہنامے ‘دی کمپینیئن’ اور انگریزی پورٹل ‘ہیڈلائنز انڈیا’ کے ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

بچوں کے خلاف جرائم: ایک لمحۂ فکریہ

جرائم کے ریکارڈ بولتے ہیں کہ روزانہ کتنی ہی زینب وحشی درندوں کی ہوس کا شکار ہوجاتی ہیں۔ یہ انسانیت کا پست ترین مقام ہے۔ زینب کا مجرم اب بھی قانون کی گرفت میں نہیں آسکا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسے بھرے پرے بازار سے اغوا کیا گیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ عام لوگ مجرم کو پکڑنے میں آگے نہیں آتے ہیں۔ اس صورت حال پر ایک عبر ت انگیز واقعہ پیش کرتا ہوں جسے فیس بک پر نعیم اکرام نے نقل کیا ہے۔ اگرچہ یہ موضوع سے راست متعلق نہیں ہے تاہم ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے