غزل

زمین شعر کی آب وہوا بدلتی ہے

زمین  شعر کی  آب وہوا  بدلتی  ہے
مری غزل سے سخن کی فضا بدلتی ہے

تمام  لہجے   برابر  ہیں  شور  میں لیکن
مرے سلیقے سے میری صدا بدلتی ہے

اندھیرا  اتنا  گھنا ہے کہ ایک جگنو بھی
چمک  اٹھے تو  لگے شب قبا  بدلتی ہے

زمیں نے آس لگائی ہے ایسے بادل سے
ہوا  کی  لہر  پہ جس  کی  وفا  بدلتی  ہے

ہمارے حال پہ کھاتا ہے جب ترس کوئی
ہزار   پہلو    ہماری    انا    بدلتی  ہے

میں ناؤ لے کے چلا تھا  ہوا  کی لہروں پر
مگر  یہ  بھول گیا  تھا  ہوا  بدلتی  ہے
جہاں میں کاٹ لیے زندگی کے دن تم نے
اٹھاؤ   رخت  سفر  اب  سرا   بدلتی  ہے

مزید دکھائیں

عتیق انظر

عتیق انظر ان دنوں قطر میں مقیم ہیں۔ آپ کو جذبات اور رومان کا شاعر کہا جاتا ہے۔ آپ انڈیا اردو سوسائٹی قطر کے بانیوں میں سے ہیں۔ پہچان آپ کا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close