غزل

زندگی درد کی دوا ہے کیا 

تجھ کو ایسا کبھی لگا ہےکیا 

جمیل اخترشفیق

زندگی  درد   کی دوا  ہے  کیا

تجھ کو ایسا کبھی لگا ہےکیا

دل تڑپتا ہےان سے ملنےکو

آج  موسم ہرا بھرا ہے کیا

آپ بلکل مجھے نہیں تکتے

کوئی شکوہ،کوئ گلہ ہےکیا

دوست میرابھی مل کےدشمن سے

اس  کی  باتوں  میں  آگیا ہے  کیا

ہوگیا مجھ پہ ہے سحرطاری

عشق جادو ہے تو بلا ہے کیا

رات بھر کروٹیں بدلتے ہو

کوئ مصرع نیا ہوا ہے کیا

دیکھ کرمجھ کوہوگئےچپ کیوں

بولیے!  اور   کچھ   بچا  ہے   کیا

مستقل داد مل رہی ہے مجھے

شعر  اچھا  کوئ  ہوا  ہے  کیا

بند کیوں ہے شفیق کاکمرہ

آج جلدی ہی سوگیا ہے کیا

مزید دکھائیں

جمیل اختر شفیق

جمیل اخترشفیق صاحب کا تعلق صوبہ بہار کے مشہور ضلع سیتامڑھی کے باجپٹی بلاک کی ایک انتہائ پسماندہ بستی سنڈوارہ سے ہے۔ آپ شاعری کے علاوہ ملک کے درجنوں اخبارات ورسائل کے لیے زمانۂ طالبِ علمی ہی سے کالم لکھتے آئے ہیں اور خوب پڑھے جاتے رہے ہیں۔ ساتھ ہی ملک بھر میں مختلف مذہبی، ادبی، سماجی موضوعات پہ منعقد ہونے والے پروگرام میں بھی ان کی شرکت ہوتی رہتی ہے، ملک کے قد آور شعراء کی موجودگی میں وہ درجنوں آل انڈیا مشاعروں کی تاریخ ساز نظامت بھی کر چکے ہیں اور ایک کامیاب ناظم کی حیثیت سے بھی اُن کی شخصیت بڑی تیزی سے ابھر رہی ہے۔ ممبئ سے نشر ہونے والا ٹیوی چینل "آئی پلس ٹیوی" جسے دنیا بھر میں تین کروڑ سے زیادہ لوگ دیکھتے ہیں اس پہ "رنگ ونور ایک دینی مشاعرہ" کے تحت نشر ہونے والے مشاعرے کی نظامت کرتے ہوئے بھی انہیں ناظرین ہر جمعہ کو دن میں 2.30بجے اور رات میں 7.30بجے متواتر دیکھ رہے ہیں جو کہ بلاشبہ صوبہ بہار کی ادبی دنیا کے لیے فخر کی بات ہے۔

متعلقہ

Close