غزل

زندگی کی داد دیتے ہیں وہ دلداروں کے ساتھ

شیخ جی اکثر ملے ہیں ہم کو میخواروں کے ساتھ

ڈاکٹر فیاض احمد علیگ

زندگی کی داد دیتے ہیں وہ دلداروں کے ساتھ

شیخ جی اکثر ملے ہیں ہم کو میخواروں کے ساتھ

چار سو بکھرے پڑے ہیں تنگ دل ذہنی مریض

تم کہیں بیمار پڑ جاؤ نہ بیماروں کے ساتھ

زندگی کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا بے حساب

رفتہ رفتہ لگ چکے تھے ہم بھی دیواروں کے ساتھ

ہم سے کندن کو بھی سونا کر گئی دنیا کی آگ

مستقل تپتے رہے ہیں ہم جو انگاروں کے ساتھ

ہم نے کھولی تھی زباں ظل الٰہی کے خلاف

پھر بھی زندہ ہیں ابھی تک سر پہ دستاروں کے ساتھ

زندگی دیتی رہے گی اک نیا کردار روز

گر وفا کرتے رہو گے سارے کرداروں کے ساتھ

روز سورج کی طرح جلتے رہے ہیں ہم بھی یار

چاند بھی جگتا رہا ہے رات بھر تاروں کے ساتھ

چالبازی کا ہنر آتا نہیں تم کو تو یار

پھر بھلا کیسے رہو گے اتنے مکاروں کے ساتھ

سخت رکھتے ہیں رویہ دشمن جانی کے ساتھ

نرم خو فیاض رہتے ہیں مگر یاروں کے ساتھ

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close